حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی عیدگاہ سکردو بلتستان پاکستان میں امامِ جمعہ والجماعت حجۃالاسلام علامہ شیخ محمد حسن جعفری کی اقتداء میں عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کی گئی، جس میں ہزاروں فرزندانِ توحید نے انتہائی عقیدت، خشوع و خضوع کے ساتھ شرکت کی۔

اس موقع پر مرکزی عیدگاہ تکبیراتِ عید، ذکرِ الٰہی اور روحانی جذبات سے معمور رہی جبکہ مؤمنین کے چہروں پر بندگی، شکرگزاری اور محبتِ الٰہی کی جھلک نمایاں دکھائی دے رہی تھی۔
علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے نمازِ عید کے خطبوں میں مراجعِ عظام، علمائے کرام، مؤمنین، حاضرین اور سامعین کی خدمت میں عیدالاضحیٰ کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان شاء اللہ یہ مبارک دن سب کے لیے خوشی، اطمینان، برکت، رحمت اور مغفرت کا ذریعہ بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ عیدالاضحیٰ خصوصی رحمتوں اور قبولیتِ دعا کا دن ہے، آج آسمان کے دروازے اہلِ ایمان کے لیے کھلے ہوتے ہیں، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ اپنے دلوں کو کینہ، نفرت اور بغض سے پاک کرکے خلوصِ نیت کے ساتھ بارگاہِ الٰہی میں دعا کریں۔

امام جمعہ سکردو نے قرآنِ مجید کی آیت ’’اللہ تک نہ ان قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے‘‘ (سورۂ الحج، آیت 37) کی تلاوت کرتے ہوئے کہا کہ قربانی کا اصل مقصد محض جانور ذبح کرنا نہیں، بلکہ اپنے نفس، خواہشات اور دنیاوی محبتوں کو اللہ کی رضا کے سامنے قربان کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ کو نہ گوشت مطلوب ہے نہ خون بلکہ وہ دلوں کی پاکیزگی، نیت کے اخلاص اور تقویٰ کو قبول فرماتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب انسان قربانی کرتا ہے تو گویا وہ یہ اعلان کرتا ہے کہ پروردگار! یہ سب تیرا عطا کردہ رزق ہے، میرا کچھ بھی نہیں، ہم تیرے ہی دیے ہوئے مال کو تیرے راستے میں پیش کر رہے ہیں اور یہی جذبۂ بندگی قربانی کی حقیقی روح ہے۔
علامہ شیخ حسن جعفری نے مولائے کائنات حضرت امام علی علیہ السلام کے ارشاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ وہ دن ہے جسے اللہ نے تمہارے لیے عید قرار دیا ہے اور تمہیں اس کا اہل بنایا ہے، پس اللہ کو زیادہ یاد کرو تاکہ وہ تمہیں یاد رکھے اور اس سے دعا کرو تاکہ وہ تمہاری دعا قبول فرمائے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ عید کا حقیقی احترام یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا زیادہ ذکر کرے، اپنے گناہوں پر نادم ہو، سچی توبہ کرے اور عاجزی کے ساتھ بارگاہِ خداوندی میں دعا مانگے۔

امام جمعہ سکردو نے رزقِ حلال اور عملِ صالح کے باہمی تعلق پر گفتگو کرتے ہوئے قرآنِ مجید کی آیت ’’اے پیغمبرو! پاکیزہ اور حلال چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال انجام دو، بے شک تم جو کچھ کرتے ہو میں اسے خوب جاننے والا ہوں‘‘ (سورۂ المؤمنون، آیت 51) کی تلاوت کی اور کہا کہ انسان جو غذا کھاتا ہے، جو کمائی اپنے گھر لاتا ہے اور جو چیزیں استعمال کرتا ہے ان کے اثرات اس کی روح، کردار اور اعمال پر مرتب ہوتے ہیں۔ اسلام صرف نماز اور روزے کا نام نہیں، بلکہ نیک اخلاق، دیانت داری، شفاف کردار، خدمتِ خلق اور اعمالِ صالح بھی دین کا حصہ ہیں۔ رزقِ حلال انسان کی روح کو بیدار کرتا ہے، جبکہ حرام لقمہ انسان کے ضمیر کو مردہ کر دیتا ہے۔
علامہ شیخ حسن جعفری نے جمہوری اسلامی ایران اور عالمی استعمار کے درمیان جاری کشیدگی پر بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری اسلامی ایران ایک ایسے دشمن کے مقابلے میں کھڑا ہے جو خونخوار بھی ہے، مکار بھی ہے اور وعدہ شکن بھی۔ ایک طرف مذاکرات کی بات کی جاتی ہے اور دوسری طرف حملے کیے جاتے ہیں، جنگ بندی کے معاہدے کیے جاتے ہیں مگر پھر انہی معاہدوں کو توڑ دیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بدل رہی ہے، امریکہ، روس اور چین عالمی طاقتیں ہیں مگر آج ایک نئی طاقت ابھر رہی ہے اور وہ جمہوری اسلامی ایران ہے۔ جب امریکہ نے معاہدہ توڑا تو ایران نے بھی منہ توڑ جواب دیا اور واضح کر دیا کہ اب امتِ مسلمہ کمزور نہیں رہی۔










آپ کا تبصرہ